ہوناور ،29؍مارچ (ایس او نیوز) ہوناور کاسرکوڈ میں تجارتی بندرگاہ تعمیرکرنے کے منصوبہ پر سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے موجودہ ایم ایل اے سنیل نائک کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام لگایا کہ سنیل نائک ایک ’جھوٹے سیاست دان‘ہیں۔
مقامی عوام کی طرف سے بندرگاہ کے تعمیری کام پر عدالت سے عبوری حکم امتناع حاصل کیا ہے ۔ اس موقع پرمنکال وئیدیا نے مقامی عوام کے ساتھ مل کر بندرگاہ کے لئے تعمیر ہونے والی سڑک پر احتجاجی دھرنا دیا اور اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رکن اسمبلی سنیل نائک پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ وہ بندرگاہ کے منصوبہ کو روکنے اور ماہی گیروں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔
منکال نے کہا کہ اس سے پہلے رکن اسمبلی سنیل نائک نے احتجاجی مظاہرہ کے موقع پر پہنچ کر ضلع انچارج وزیر، ڈپٹی کمشنر وغیرہ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بندرگاہ کی تعمیر روکنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن بعد میں انہوں نے ہاتھ اٹھا لیا کہ تعمیری کام روکنے کے لئے کچھ کرنا میرے بس میں نہیں ہے، جو کچھ کرنا ہے وہ ضلع ڈپٹی کمشنر کو ہی کرنا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک ایم ایل اے ارادہ کرلے تو یہ کام روکا جا سکتا ہے۔ لیکن اب قدرت نے احتجاجی مظاہرین کا ساتھ دیا اور عدالت کے ذریعے انہیں انصاف ملا ہے۔
اس موقع پر ماہی گیر فیڈریشن کے صدر راجو تانڈیل نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ماہی گیروں کو گمراہ کرنے کے لئے’ساگر مالا‘منصوبہ کو ’بھارت مالا‘ منصوبہ کے نام سے جاری کیا ہے۔ جہاں پر ماہی گیر بندرگاہ نہیں ہے حکومت کو وہاں پر تجارتی بندرگاہ تعمیر کرنا چاہیے۔ ماہی گیروں کی ایک نمائندہ خاتون پریتی گنیش تانڈیل نے کہا کہ 52 دن ہوگئے ہمارا احتجاج مسلسل چل رہا ہے۔ عوامی نمائندے اور سرکاری افسران نے یہاں پہنچ کر آنسو بہانے کے سوا کچھ نہیں کیا ہے۔ اب قدرت کی مہربانی سے ہمیں عدالت سے اسٹے مل گیا ہے۔ ماہی گیری ہی ہماری زندگی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہمیں جینے کے وسائل فراہم کرے۔ اب تعمیراتی کام پر عبوری اسٹے ملا ہے اس لئے دھرنا ختم کیا جارہا ہے۔ لیکن ہماری زندگی کا سہارا چھیننے والے منصوبہ کے خلاف ہمارا احتجاج ہمیشہ باقی رہے گا۔
اس دھرنے میں ماہی گیر لیڈروں کے علاوہ سیکڑوں مقامی افراد موجود تھے۔